Return to BahaiPrayers.net
Facebook
لوحِ احتراق
اللہ کے نام سے جو سب سے قدیم، سب سے بڑا ہے
مخلصین جدائی کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئے۔ اے جہانوں کے محبوب! تیری لقاء کے انوار کی جھلک کہاں ہے؟
مقربین ہجر کے اندھیروں میں چھوڑ دیئے گئے ہیں۔
اے جہانوں کے مقصود! تیری صبح وصال کی روشنی کہاں ہے؟
تیرے اصفیا کے اجساد دُور کے وطن میں تڑپ رہے ہیں۔
اے جہانوں کے جذاب! تیرے قرب کا دریا کہاں ہے؟
امید کے ہاتھ تیرے آسمان فضل و عطا کی جانب بلند ہیں۔
اے جہانوں کے فریاد رس! تیرے کرم کی برسات کہاں ہے؟
مشرکین ہر طرف سے ظلم و ستم پر کمر بستہ ہو گئے۔
اے جہانوں کے مسخر! تیرے قلم تقدیر کی تسخیر کو کیا ہوا؟
ہر طرف سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں بلند ہیں۔
اے جہانوں کے قہار! تیری سطوت کے جنگل کا شیر کہاں ہے؟ کل نوع انسانی پر سردی چھا گئی۔
اے جہانوں کی آگ! تیری محبت کی حرارت کہاں ہے؟
مصیبت اپنی انتہا کو پہنچ چکی۔
اے جہانوں کے مشکل کشا! تیری دستگیری کے ظہورات کہاں ہیں؟
اکثر مخلوق کا ظلمت نے احاطہ کر لیا ہے۔
اے جہانوں کی ضیاء! تیری ضیاء کے انوار کہاں ہیں؟
لوگوں کی گردنیں نفاق میں اکڑ گئیں ہیں۔
اے جہانوں کے ہلاک کرنے والے! تیرے انتقام کی تلواریں کہاں ہیں؟ ذلت اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔
اے جہانوں کی عزّت! تیری آیات عزّت کہاں ہیں؟
تیرے اسم رحمن کے مطلع کو غموں نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
اے جہانوں کی مسرّت! تیرے مظہر ظہور کا سرور کہاں گیا؟
ساری امتوں کو غم و اندوہ نے گھیر لیا ہے ۔
اے جہانوں کی بہجت! تیری بہجت کے پھریرے کدھر گئے؟ تو دیکھتا ہے کہ تیرے مشرق آیات کو اشاروں نے ڈھانپ لیا ہے۔
اے جہانوں کے اقتدار! تیری قدرت کی انگلیاں کہاں ہیں؟
عالم انشا ء کے سبھی لوگ کو پیاس میں مبتلا ہیں۔
اے جہانوں کی رحمت! تیری عنایت کا فرات کہاں ہے؟
جہان ابداع کے رہنے والوں کو حرص نے آ لیا ہے۔
اے جہانوں کے آقا! انقطاع کے پیکر کہاں ہیں؟
تو دیکھتا ہے کہ یہ مظلوم پردیس میں تنہا ہے۔
اے آسمانوں کے سلطان! تیرے آسمان امر کے لشکر کہاں ہیں؟
مجھے بیگانے ملک میں بے سہارا چھوڑ دیا گیا ہے۔
اے جہانوں کی وفا! تیری وفا کے مشرق کہاں ہیں؟
سکرات موت کل آفاق پر طاری ہو گیا ہے۔
اے جہانوں کی زندگی! تیرے آبِ حیات کے دریا کی پھواریں کہاں ہیں؟
عالم امکان کی ہر چیز کو شیطانی وسوسوں نے گھیر لیا۔
اے جہانوں کے نور!تیری آگ کا شہاب ثاقب کہاں ہے؟
ہوا و ہوس کے نشے سے اکثر لوگ متغیر ہو گئے تو دیکھتا ہے کہ یہ مظلوم اہل شام کے درمیان ظلم کے تاریک پردوں میں ہے۔ اے جہانوں کے چراغ! تیری صبح انوار کی تجلی کو کیا ہوا؟
تو دیکھتا ہے کہ مجھے بیان سے روک دیا گیا ہے۔
اے جہانوں کے بلبل تیرے نغمات کیوں کب بلند ہوں گے؟
اکثر لوگوں کو ظنون و اوہام نے ڈھانپ لیا ہے۔
اے جہانوں کے سکون! تیرے ایقان کے مطلع کہاں ہیں؟
بہآء بحر بلامیں ڈوب رہاہے۔
اے جہانوں کے نجات دہندہ! تیری نجات کا سفینہ کہاں ہے؟
تو دیکھتا ہے کہ تیری آیات کا مطلع امکان کے ظلمات میں ہے۔
اے جہانوں کو منوّر کرنے والے تیرے افق عنایت کا آفتاب کہاں ہے؟
صدق و صفا اور غیرت و وفا کے چراغ خاموش کر دیئے گئے۔ اے جہانوں کے محرّک! تیرے انتقام کی نشانیاں کہاں ہیں؟
کیا تجھے کوئی ایسا آدمی نظر آتا ہے جو تیری ذات کی نصرت کرے یا ان مصائب میں غور کرے جو تیری محبت میں اس پر وارد ہوئے؟
اے جہانوں کے محبوب! اب میرا قلم رک رہا ہے۔
سدرۃ المنتہی کی شاخیں قضا و قدر کی ہواؤں سے ٹوٹ گئیں۔
اے جہانوں کے مددگار! تیری نصرت کے پرچم کہاں ہیں؟
میرا چہرہ افترا کی دھول میں چھپ گیا۔
اے جہانوں کے رحمن! تیری رحمت کی ہوائیں کہاں ہیں؟
مکاروں کی وجہ سے دامن تقدیس داغدار ہو گیاہے۔
اے جہانوں کو مزین کرنے والے! تیری پاکیزگی کا لباس کہاں ہے؟
اہل دنیا کے کرتوتوں کے سبب عنایت کا دریا تھم گیا۔
اے جہاں کی مراد! تیرے فضل کی موجیں کہاں ہیں؟
دشمنوں کے ظلم سے باب لقاء بند ہو گیا۔
اے جہانوں کے فتاح! تیری عنایت کی کلید کہاں ہے؟
پتے باد سموم سے زرد پڑ گئے۔
اے جہانوں کے جواد! تیرے جودو کرم کے بادلوں کی رم جھم کہاں ہے؟
گناہوں کے غبار سے جہاں تاریک ہو گیا۔
اے جہانوں کے غفار! تیرے غفران کے جھونکے کہاں ہیں؟
یہ جوان دور کی سر زمین میں بے یارو مددگار ہے۔
اے جہانوں کے فریاد رس! تیرے آسمان فضل کا مینہ کہاں ہے؟
اے قلم اعلیٰ! ہم نے جبروتِ بقاء میں تیری شیریں ندا سن لی ہے۔
اے جہانوں کے مظلوم! اب لسان کبریا جو کہتی ہے تو اسے غور سے سن۔
اے جہانوں کے مبین! اگر سردی نہ ہوتی تو تیرے بیان کی حرارت کیونکر ظاہر ہوتی؟
اے جہانوں کی شعاع!اگر مصیبت نہ ہوتی تو میرے صبر و شکیبائی کا آفتاب کیسے چمکتا!
تو شریروں کا گلہ و شکایت نہ کر اے جہانوں کے صبر!تجھے تو صبرو تحمل کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ اے جہانوں کے عشق! اہل نفاق کے درمیان افق میثاق سے تیرا اشراق اور اللہ کے ساتھ تیرا اشتیاق کس قدر شیریں ہے!
تجھی سے بلند ترین پہاڑوں پر استقلال کا علم بلند ہوااور اے جہانوں کے جوش! بحر افضال تجھی سے موجزن ہے۔
تیری تنہائی سے آفتاب توحید چمکا اور تیری جلاوطنی سے تجرید کا وطن مزّین ہوا ۔ اسے جہانوں کے جلاوطن! صبر سے کام لے۔
اے جہانوں کے صبر! ہم نے ذّلت کو عزت کااور بلاؤں کو تیرے ہیکل کا لباس بنایا ہے۔ تو دیکھتا ہے کہ قلوب بغض سے بھرے ہوئے ہیں لیکن اے جہانوں کے ستّار!تیرا کام تو پردہ پوشی ہے۔
اے فدائے عالمین! جب تو تلوار دیکھے تو آگے بڑھ اور جب کوئی تیر چلے تو اس کا استقبال کر۔
کیا تو گریہ و زاری کرتا ہے یا میں آہ و بکا کرتا ہوں۔ بلکہ میں تو تیرے مددگاروں کی قلّت پر آنسو بہاتا ہوں۔ اے وہ ذات کہ تجھ سے جہانوں کا نوحہ بلند ہوا!
اے محبوب ابہیٰ! میں نے تیری ندا سن لی اور اب چہرۂ بہآء مشکلات کی حرارت سے اور تیرے روشن کلمہ کے انوار سے چمک اٹھا۔ اے جہانوں کے قائم رکھنے والے! وہ تیری رضا کو دیکھتے ہوئے تیری شہادت گاہ میں وفا پر قائم ہو گیا ہے۔
اے علی اکبر! اس لوح کے لئے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لا کہ اس سے جہانوں کے معبود کی راہ میں میری مظلومیت اور مجھ پر جو بیتی ہے اس کی خوشبوآتی ہے۔
اگر تمام بندے اس لوح کی تلاوت کریں اور اس پر غور کریں تو ان کے رگ و پے میں ایسی آگ بھڑک اٹھے گی جو جہانوں کو شعلہ ور کر دے گی۔
- Bahá'u'lláh