Return to BahaiPrayers.net
Facebook
زیارت نامہ حضرت بہااللہ
اے مظہر کبریا! اے سلطان بقاء! اے مالک اہل ارض و سماء! وہ حمد و ثناء، جو تیری ذات اعلیٰ سے ظاہر ہوئی اور وہ روشنی جو تیرے جمال ابہیٰ سے نمودار ہوئی، تیری ہی شان کے شایان ہے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے ہی ذریعے سلطنت و اقتدار الٰہی اور خدا کی عظمت و کبریائی کا ظہور ہوا ہے اور تیرے ہی ذریعے آسمان قضاء و قدر پر قِدم کے آفتاب درخشاں ہوئے اور نئی آفرینش کے افق سے جمال غیب طلوع ہوا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے قلم کی حرکت سے کاف و نون کی فرماں روائی ظہور میں آئی اور خدا کا پوشیدہ راز عیاں ہو گیا۔ کائنات نئے سرے سے وجود میں آئی، ظہورات برپا کئے گئے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے جمال سے جمال معبود آشکار ہوا اور تیرے چہرے سے خدا وند مقصود کا چہرہ نمودار اور تیرے ایک ہی کلمہ سے تمام جہاں کے فیصلے ہو گئے، اخلاص مند بلند مقام پر جا پہنچے اور مشرک گہرے گڑھوں میں جاپڑے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ جس نے تجھے پہچانا اس نے خدا کو پہچانا اور جو کوئی تیری ملاقات سے فائز ہوا وہ خدا کی ملاقات سے فائز ہوا۔ مبارک ہے وہ انسان جو تجھ پر ایمان لاتا ہے اور تیری ملاقات سے مشرّف ہوتا ہے اور تیری خوشنودی حاصل کرتا ہے اور تیرے گرد طواف کرتا ہے اور تیرے عرش کے سامنے حاضر ہوتا ہے اور ہلاکت ہے اس کے لئے جو تجھ پر ظلم کرتا ہے، تیرا انکار کرتا ہے، تیری آیات کو نہیں مانتا،تیری حکومت کا باغی ہے۔ تجھ سے جنگ کرتا ہے، تیرے مقابل بڑا بنتا ہے، تیری برہان کے متعلق جھگڑتا ہے اور تیری بادشاہی سے نکل جاتا ہے،تیرے اقتدار کو تسلیم نہیں کرتا۔ فرمان لکھنے والی انگلیوں سے اس شخص کا نام الواح قدس کے صفحات پر مشرکوں میں درج ہے۔
اے میرے معبود! اے میرے محبوب! اپنی رحمت و عنایت کی دائیں جانب سے اپنے الطاف کے قدسی نفحات میری طرف بھیج تاکہ وہ مجھے میرے نفس سے اور ساری دنیا سے چھڑا کر تیرے مقام قرب و لقاء میں کھینچ لیں۔ تو جو کچھ چاہے کر سکتا ہے تو ہر چیز پر غالب ہے۔ اے جمال الٰہی! تجھ پر خدا کی حمد و ثناء۔ تجھ پر خدائی نور و بہآء۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ چشم عالم نے تجھ سا مظلوم نہیں دیکھا۔ تو اپنے ایّام ظہور میں بلاؤں کے بھنور میں گرفتاررہا۔ کبھی طوق اور زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور کبھی دشمنوں کی تلواروں کے نیچے تھا اور ان سب مظالم کے ہوتے ہوئے تو نے لوگوں کو وہی حکم دیا جو تجھے خدا وند علیم و حکیم کی طرف سے دیا گیا تھا۔ میری جان تیری مصیبت پر قربان! میری ہستی تیری تکلیف پر فدا ہو۔ میں تیرے اور ان لوگوں کے وسیلے جو تیرے انوار جمال سے منوّر ہوئے ہیں اور تیری محبت میں تیرے احکام پر عمل پیرا ہیں، خداوند عالم سے چاہتا ہوں کہ وہ ان پردوں کو ہٹا دے جو تیرے اور لوگوں کے درمیان پڑے ہوئے ہیں اور مجھے دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا فرما۔ بے شک تو مقتدر، برتر، غالب، بخشنے والا، مہربان ہے۔
اے میرے خدا! اے میرے معبود! شجرہ ظہور پر، اس کے پتوں، ڈالیوں، جڑوں اور شاخوں پراس وقت تک اپنی رحمت نازل فرماتا رہ، جب تک تیرے اسماء حسنیٰ اور صفات علیا کا لازوال دور باقی ہے۔ پھر اسے شریروں کی شرارت اور ظالموں کے ظلم سے بچائے رکھ۔ بے شک تو اقتدار اور قدرت کا مالک ہے۔
اے میرے خدا! اپنے فائز ہونے والے بندوں اور فائز ہونے والی کنیزوں پر رحمت نازل فرما۔ تو ہی کریم مالک فضل عظیم ہے۔ تیرے سوا کوئی خدا نہیں۔ تو بخشنے والا اور کرم فرمانے والا ہے۔
- Bahá'u'lláh