Return to BahaiPrayers.net
Facebook
زیارت نامہ حضرت عبد البہآء
الٰہی الٰہی! میں عاجزی اور فروتنی کے ہاتھ تیرے سامنے پھیلا رہا ہوں اور اس بارگاہ کی خاک پر اپنا منہ رگڑ رہا ہوں جو حقیقت و کمالات رکھنے والے داناؤں کے ادراک سے بھی مقّد س و برتر ہے۔ التجا کرتا ہوں کہ تو اپنے بندے کو چشمِ رحمانیت کی نظر سے دیکھ جو تیری احدیت کے دروازے پر خضوع و خشوع کر رہاہے اور اسے اپنی بے پناہ رحمت کے سمندروں میں غوطہ دے۔
اے پروردگار! یہ تیرا بندہ مصیبت زدہ محتاج ہے اور تیرا غلام گدائے عاجز اور تیری محبت کا اسیر ہے۔ تیرے حضور التجا کر رہا ہے، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہے، تیرے سامنے عاجزی کرتا ہے، تجھے پکارتا ہے، تجھ سے دُعا کرتا ہے اور کہتا ہے، اے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ تیرے احباب کی خدمت کروں اور مجھے قوّت دے کہ تیری بارگاہ احدیت کی بندگی کرتا رہوں اور اپنی بزم قدس میں مجھے غلامی کا شرف عطا فرما کر میری پیشانی کو روشن فرما دے اور اپنے ملکوت عظمت کی طرف مجھے متوجہّ رکھ اور اپنے دروازہِ الوہیت کے آگے مجھے مقام فنا میں قائم رکھ اور اپنی ربوبیت کے میدان میں میری مدد فرما کہ میں اپنی ہستی کو تیرے حضور میں معدوم کر دوں۔
اے پروردگار! مجھے فنا کا جام پلا دے، مجھے فنا کا لباس پہنا دے، مجھے دریائے فنا کی گہرائی میں پہنچا دے، مجھے احباب کی راہ گزر کا غبار بنا دے، مجھے اس سرزمین میں فدا کردے جس پر تیری راہ میں تیرے پاکباز بندے چلتے رہے ہیں۔
اے عزت و عظمت کے مالک! بے شک تو ہی کرم فرما اور برتر ہے۔ یہ وہ التجا ہے جو تیرا بندہ صبح و شام تجھ سے کر رہا ہے۔ اے پروردگار! اس کی آرزو پوری کردے اور اس کے دل و جان کو روشن فرما دے، اس کا سینہ کھول دے، اس کا چراغ اپنے امر اور اپنے بندوں کی خدمت میں موفق و روشن رکھ۔ بے شک تو ہی کریم و رحیم، بخشنے والا ہے اور تو سب پر غالب، نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ زیارت نامہ حضرت عبد البہآء
الٰہی الٰہی! میں عاجزی اور فروتنی کے ہاتھ تیرے سامنے پھیلا رہا ہوں اور اس بارگاہ کی خاک پر اپنا منہ رگڑ رہا ہوں جو حقیقت و کمالات رکھنے والے داناؤں کے ادراک سے بھی مقّد س و برتر ہے۔ التجا کرتا ہوں کہ تو اپنے بندے کو چشمِ رحمانیت کی نظر سے دیکھ جو تیری احدیت کے دروازے پر خضوع و خشوع کر رہاہے اور اسے اپنی بے پناہ رحمت کے سمندروں میں غوطہ دے۔
اے پروردگار! یہ تیرا بندہ مصیبت زدہ محتاج ہے اور تیرا غلام گدائے عاجز اور تیری محبت کا اسیر ہے۔ تیرے حضور التجا کر رہا ہے، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہے، تیرے سامنے عاجزی کرتا ہے، تجھے پکارتا ہے، تجھ سے دُعا کرتا ہے اور کہتا ہے، اے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ تیرے احباب کی خدمت کروں اور مجھے قوّت دے کہ تیری بارگاہ احدیت کی بندگی کرتا رہوں اور اپنی بزم قدس میں مجھے غلامی کا شرف عطا فرما کر میری پیشانی کو روشن فرما دے اور اپنے ملکوت عظمت کی طرف مجھے متوجہّ رکھ اور اپنے دروازہِ الوہیت کے آگے مجھے مقام فنا میں قائم رکھ اور اپنی ربوبیت کے میدان میں میری مدد فرما کہ میں اپنی ہستی کو تیرے حضور میں معدوم کر دوں۔
اے پروردگار! مجھے فنا کا جام پلا دے، مجھے فنا کا لباس پہنا دے، مجھے دریائے فنا کی گہرائی میں پہنچا دے، مجھے احباب کی راہ گزر کا غبار بنا دے، مجھے اس سرزمین میں فدا کردے جس پر تیری راہ میں تیرے پاکباز بندے چلتے رہے ہیں۔
اے عزت و عظمت کے مالک! بے شک تو ہی کرم فرما اور برتر ہے۔ یہ وہ التجا ہے جو تیرا بندہ صبح و شام تجھ سے کر رہا ہے۔ اے پروردگار! اس کی آرزو پوری کردے اور اس کے دل و جان کو روشن فرما دے، اس کا سینہ کھول دے، اس کا چراغ اپنے امر اور اپنے بندوں کی خدمت میں موفق و روشن رکھ۔ بے شک تو ہی کریم و رحیم، بخشنے والا ہے اور تو سب پر غالب، نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔
- Bahá'u'lláh