Return to BahaiPrayers.net
Facebook
اللہ
الٰہی الٰہی! یہ بندہ تیری توحید ذات اور تیری تقدیس و تنزیہہ پر ایمان رکھتا ہے، تیری سلطنت و قدرت اور عظمت و اقتدار کو جان و دل سے تسلیم کرتا ہے، تیرے انوار ملکوت اور تیرے انبیاء و رسل اور ظہور اعظم کے ذریعے امتوں میں فرمان توحید جاری و قائم ہو چکا ہے، تیرے فضل کے دروازے موجودات کے لئے کھل گئے ہیں،اہل جہاں کے لئے رحمت عام کا اعلان کر دیا گیا ہے، میں تیرے ان مظاہر فیض کے وسیلے سے التجا کرتاہوں تو مجھے ایسی توفیق عطا فرما کہ میں ہر حال میں تیری مخلوق کے درمیان تیرا ذکر اور تیری حمد و ثنا کرتا رہوں اور ایسے کام کروں جس کے باعث میرا ذکر تیری دائمی سلطنت میں ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے اے پروردگار! تو دیکھتا ہے کہ میں تیری طرف متوجہ ہوں، تیرے فضل کی طناب تھام رہا ہوں، تیرے دروازۂ عطا پر کھڑا ہوں اور تیری نئی سے نئی بخشش کا امیدوار ہوں اے پروردگار! غیبی لشکروں سے میری مدد فرما، کذب و ریب کے مظاہر سے مجھ کوبچا۔ اے پروردگار! تو دیکھتا ہے کہ فقیر تیرے فضل و کرم کا طلب گار ہے، دور افتادہ تیرا قرب چاہتا ہے، ضعیف تیری قدرت کا طالب ہے، مظلوم عدل کا خواستگار اسغفراللہ بلکہ تیرے فضل کا طلب گار ہے۔ پیاسا تیری فرات رحمت کا جویا ہے، قاصد تیری بارگاہ کا مشتاق ہے، مسافر تیرے جوارِ فضل میں اپنے وطن کا شائق ہے۔ درخواست کرتا ہوں کہ اس بندے کو ان نعمتوں سے محروم نہ فرما جو تو نے اپنے امین و مقبول بندوں کے لئے مقدر فرمائی ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ تیرا کرم عمیم سب پر عام ہے، تیرا فضل ہمہ گیر ہے، تیری رحمت زمین و آسمان والوں پر چھا رہی ہے۔ اے میرے معبود! تیرے اقتدار اور میری عاجزی پر، تیری قدرت اور میری کمزوری پر تمام کائنات گواہ ہے۔ تیری غنا اور میری محتاجی پر، تیری عنایت اور میری طلب پر تمام ممکنات شاہد ہیں۔ تیری اس بخشش و عطا کا واسطہ جو عالم ہستی پر محیط ہے جس کے باعث مکلم طور نے کلا م کیا اور اہل قبور زندگی میں برپا ہوئے تو مجھے ایسی توفیق عطا فرما کہ مجھے تیرا قرب حاصل ہو جائے اور میں تیرے امر پر مستقیم رہوں، تیری محبت میں قائم رہوں۔ اے پروردگار! تو دیکھتا ہے کہ میں اس وقت تیرے اس ارشاد قرآن سے متمسک ہوں جو تو نے فرمایا ہے اور تیرا فرمانا سراسر حق ہے کہ ’’اے لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج و فقیر ہو اور اللہ کسی کا محتاج نہیں وہ تو ہرایک خوبی کا مالک ہے‘‘ اے خدا تیری اس شہادت سے میری محتاجی اور تیری بے نیازی ثابت ہے۔ جبکہ تو خود اپنی غنا اور بندے کی محتاجی کا شاہد ہے تو کیا اب تو اپنے محتاج بندے کو اپنے دروازے سے دھتکار دے گا؟ نہیں، فقیر کو دھتکارنا کریم کا شیوہ نہیں ہے، ذلیل بندے کو بارگاہ عزت سے روک دینا مالک عزت کے شایان شان نہیں ہے۔
- Bahá'u'lláh